پاکستان جرمن پریس کلب

پاکستان جرمن پریس کلب کا قیام 2010مین ہوا،جس کیباقاعدہ رجسٹریشن 2013میں کروائی گئی۔
ابتدائی طور پر سنیئر صحافی(نمائندہ جنگ،جیو نیوز)مطفر الحسن شیخ صدر منتخب ہوئیسید رضوان شاہ کوسیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا جبکہ سلیم پرویز بٹ سنیئر نائب صدر،سید اقبال حیدر نائب صدر برائے یورپ،عطاالرحمن اشرف نائب صدر برائے پاکستان اور نذر حسین سیکریٹری مالیات مقرر کیے گئے۔
قیام کے فوری بعد سفیر پاکستان جناب عبدالباسط کی جرمنی آمد پر ویلکم دعوت دی گئی۔جس میں پاکستان جرمن پریس کلب نے کیمونٹی کے تمام افراد جن کا تعلق سیاسی،سماجی،مذہبی تنظیموں کے ارکان کو شرکت کی دعوت دی۔ سفیر پاکستان جناب عبدالباسط کے استقبالی خطبہ میں صدر پاکستان جرمن پریس کلب مظفر الحسن شیخ نے پریس کلب کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ اووسیز پریس کلب کا کام صرف صحافتی ذمہ داریاں ہی پورا کرنا نہیں بلکہ پاکستان جرمن پریس کلب کیمونٹی کے درمیان روابط کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔تمام کیمونٹی تنظیمیں پاکستان جرمن پریس کلب کو غیرجانب دار تسلیم کرتی ہیں،اسی وجہ سے آج کے پروگرام میں تمام سیاسی پارٹیوں کے تمام دھڑے ایک ساتھ شامل ہیں۔
پاکستان جرمن پریس کلب اپنی ذمہ داری سمجھتا کہ اگر جرمنی میں پاکستان کے متعلق غلط پروپیگندا کیا جاتا،عالمی میڈیاطالبان کے حوالے سے پاکستان کی غلط تصویر پیش کرتا تو پاکستان جرمن پریس کلب ایسے پروگراموں کا انعقاد کرے کہ پاکستان کا اصل امیج پیش کیا جا سکے۔پاکستانیوں کے علاوہ جرمن اور دیگر افراد کو پاکستان کے اصل حالات سے آگاہ کرے۔
پاکستانی فن و ثقافت کی ترویج پروگراموں کا نعقاد کیا جائے اور دوسری تنظیموں کو مدد کی جائے جو اس مشن کو لے کر چل رہے ہیں۔اس سلسلہ میں پاکستان جرمن پریس کلب اور ٹیم شان پاکستان مختلف مواقع پر پاکستانی ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہی ہے۔23مارچ اور 14اگست پر صنم ماروی اور پپو سائیں جیسے فنکاروں کو مدعو کیا۔
پاکستان جرمن پریس کلب کے ارکان مختلف میڈیا گروپ (پاکستانی نیوز ٹیلی ویژن)سے وابستہ ہیں۔جبکہ پرنٹ میڈیا اور آئن اخبارات کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔پاکستان جرمن پریس کلب کے ممبران جرمنی میں رجسٹرڈ جرنلسٹ کی حیثیت سے اقوام متحد اور جرمنی پارلیمنٹ میں اپنے اداروں کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>